خزینہ ایمان - تمام آڈیو

تمام زمرہ جات

سود

میرے ایک رشتہ دار نے بینک میں اکاؤنٹ کھلوایا۔ اس ملک میں کوئی بھی بینک ایسا نہ تھا جو سود نہ دیتا ہو اس لئے اُسے سود کی رقم لینی پڑی۔ اب اس سود کی رقم کا کیا کیا جائے؟؟ کیا اسے خیرات میں دے دیا جائے؟؟
1۔ تنخواہ سے ہونے والی لازمی کٹوتی جو کہ ’’پراویڈنٹ فنڈ‘‘ کی مد میں ہوتی ہے۔ کیا اس پر سود لینا جائز ہے؟؟
کیا کسی غیر مسلم کو قرض لے کر سود لیا جا سکتا ہے؟؟
’سود‘ اور ’کمیشن‘ میں کیا فرق ہے؟؟
میں اور میرے بھائی نے مشترکہ نام سے قرض پر ایک مکان خریدا جس پر سود ادا کیا جاتا ہے، اب مجھے احساس ہو رہا ہے کہ میں نے گناہ کیا، میں اب چاہتا ہوں کہ وہ گھر بیچ دوں لیکن بھائی اور والد راضی نہیں ہیں، میں اپنا حصہ منتقل بھی نہیں کر سکتا کیونکہ بھائی کی اتنی آمدنی نہیں ہے کہ وہ تنہا قرض کی اقساط ادا کر سکے اور بینک بھی اس کی اجازت نہیں دے گا، کرایہ پر مکان مہنگے ہیں، میں اپنے عمل پر نادم ہوں۔ براہِ کرم کوئی حل بتائیں۔
میں نے سنا ہے کہ رقم بینک میں نہیں رکھنا چاہیے اور یہ بھی معلو م ہوا ہے کہ مفتی نظام الدین رضوی (جامعہء اشرفیہ) کااس بارے میں کوئی فتوٰی ہے، کیا مجھے وہ فتوٰی مل سکتا ہے ؟؟
تمام دیکھیں
keyboard_arrow_up