خزینہ ایمان - تمام آڈیو

تمام زمرہ جات

سود

بینک ایک ’اجارہ‘ اسکیم کے تحت مجھے ایک کار، جو وہ پہلے اپنے نام پر خریدیں گے، پھر مجھے اُس کے لئے انہیں ماہا نہ قسط جمع کروانی ہو گی جس میں کار کی اصل رقم بھی ہوگی اور کار کا ماہانہ کرایہ بھی اور مدّتِ معینہ کے بعد وہ کار میرے نام کردیں گے۔ وُہ اسے اسلامی طریقہ بتاتے ہیں، براہِ کرم بتائیں کہ کیا یہ جائز ہے یا یہ سود کے زمرے میں آتا ہے؟؟ براہِ کرم تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں تا کہ میں کوئی درست فیصلہ کر سکوں۔
1۔ کیا ’سود‘ اور ’ربا‘ ایک ہی چیز ہیں ؟؟
ہالینڈ میں ہماری تنخواہ بینک میں جمع ہوتی ہے اور اس طرح تنخواہ میں سود شامل ہو جاتا ہے کیا اس صورتِ حال میں کیا جانے والا حج قبول ہو گا ؟؟
1۔ ریٹائر مینٹ حاصل کرنے کے بعد ملنے والی گریجویٹی اور دوسری مد میں ملنی والی رقوم کا اکثر لوگ بینک، وغیرہ میں جمع کرا دیتے ہیں تا کہ سود یا منافع کی مد میں ملنے والی رقم سے بقیہ زندگی گزارنے کا سامان ہو سکے کیونکہ ان کے پاس اور کوئی ذرائع بھی نہیں ہوتے۔ تو اس طرح کی رقم حاصل کرنا مکمل طور پر حرام ہے یا اسلام میں اس کی کوئی گنجائش ہے؟؟
1۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ غیر مسلم ملک کے بینک سے منافع لینا درست ہے، کیا یہ صحیح ہے ؟؟
2۔ میرے ایک عزیز بہت ہی مالدار ہیں، وہ میرے ساتھ ایک بھلائی کرنا چاہتے ہیں، اگر میں کچھ رقم انہیں دوں تو وہ مجھے ایک معین منافع دیں گے، میری نیّت سود کی نہیں ہے اور نہ ہی وہ سود دینے کے حق میں ہیں، صرف بھلائی کے طور پر ہو مجھے منافع دینا چاہتے ہیں، تاہم نقصان کے صورت میںوہ مجھ سے نقصان نہیں لینگے کیونکہ میری رقم مختلف کاروبار میں استعمال کریں گے لہذٰامیری مخصوص رقم کا انکے لئے الگ سے حساب رکھنا ممکن نہیں ہے۔
تمام دیکھیں
keyboard_arrow_up