خزینہ ایمان - تمام آڈیو

تمام زمرہ جات

سود

1۔ ریٹائر مینٹ حاصل کرنے کے بعد ملنے والی گریجویٹی اور دوسری مد میں ملنی والی رقوم کا اکثر لوگ بینک، وغیرہ میں جمع کرا دیتے ہیں تا کہ سود یا منافع کی مد میں ملنے والی رقم سے بقیہ زندگی گزارنے کا سامان ہو سکے کیونکہ ان کے پاس اور کوئی ذرائع بھی نہیں ہوتے۔ تو اس طرح کی رقم حاصل کرنا مکمل طور پر حرام ہے یا اسلام میں اس کی کوئی گنجائش ہے؟؟
کوئی بوڑھا شخص جس میں کمانے کی طاقت نہ ہویا ایک مجاہد جو کہ اپنے پیچھے گھر والوں کی مالی اعانت کے لئے، بینک میں رقم رکھ کر منافع حاصل کر سکتے ہیں؟؟(یاد رہے کہ پاکستان میں بینک کہتے ہیں کہ یہ منافع ہے، سود نہیں ہے)۔
سود سے متعلق اسلا م کیا کہتا ہے ؟؟
کیا کسی غیر مسلم کو قرض لے کر سود لیا جا سکتا ہے؟؟
1۔ تنخواہ سے ہونے والی لازمی کٹوتی جو کہ ’’پراویڈنٹ فنڈ‘‘ کی مد میں ہوتی ہے۔ کیا اس پر سود لینا جائز ہے؟؟
میں ایک لباس اور جوتے کی دکان پر کام کرتا ہوں معمول کے کام کے علاوہ میری ذمہ داری یہ بھی ہے کہ میں کسٹمرز سے کہوں کہ وہ ہماری دکان کا کریڈٹ کارڈ بھی استعمال کریں، جس پر سود لاگو ہوتا ہے۔ کیا یہ ملازمت جائز ہے۔ (جب کہ امریکہ دارالحرب ہے)۔
تمام دیکھیں
keyboard_arrow_up