خزینہ ایمان - تمام آڈیو

تمام زمرہ جات

سود

1۔ ریٹائر مینٹ حاصل کرنے کے بعد ملنے والی گریجویٹی اور دوسری مد میں ملنی والی رقوم کا اکثر لوگ بینک، وغیرہ میں جمع کرا دیتے ہیں تا کہ سود یا منافع کی مد میں ملنے والی رقم سے بقیہ زندگی گزارنے کا سامان ہو سکے کیونکہ ان کے پاس اور کوئی ذرائع بھی نہیں ہوتے۔ تو اس طرح کی رقم حاصل کرنا مکمل طور پر حرام ہے یا اسلام میں اس کی کوئی گنجائش ہے؟؟
1۔ کیا کریڈٹ کارڈ کا استعمال جائز ہے؟؟ واضح ہو کہ کارڈ کی فیس 500سے1,000روپے سالانہ ہے اور کارڈ کے عوض جو خریداری کی جائے اس کی ادائیگی اگر ایک مہینے میں کردی جائے تو سود ادا نہیں کرنا پڑتا لیکن اگر ادائیگی ایک مہینے کے بعد کریں گے تو اس صورت میں سود ادا کرنا ہو گا۔
قومی بچت اسکیم کی صورت میں جو سود حاصل ہو اسے کھانے پینے کے علاوہ گھر کی بناوٹ میں استعمال کر سکتے ہیں؟؟
بینک ایک ’اجارہ‘ اسکیم کے تحت مجھے ایک کار، جو وہ پہلے اپنے نام پر خریدیں گے، پھر مجھے اُس کے لئے انہیں ماہا نہ قسط جمع کروانی ہو گی جس میں کار کی اصل رقم بھی ہوگی اور کار کا ماہانہ کرایہ بھی اور مدّتِ معینہ کے بعد وہ کار میرے نام کردیں گے۔ وُہ اسے اسلامی طریقہ بتاتے ہیں، براہِ کرم بتائیں کہ کیا یہ جائز ہے یا یہ سود کے زمرے میں آتا ہے؟؟ براہِ کرم تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں تا کہ میں کوئی درست فیصلہ کر سکوں۔
1۔ کیا ’سود‘ اور ’ربا‘ ایک ہی چیز ہیں ؟؟
کیا بینک سے حاصل کیا ہوا منافع (سود)ذاتی استعمال میں لایا جا سکتا ہے یا یہ کسی غریب کو دینا چاہیے ؟؟
تمام دیکھیں

عقائد فقہ اختلافی مسائل

تمام دیکھیں
keyboard_arrow_up