https://fbcdn-sphotos-a-a.akamaihd.net/hphotos-ak-xpf1/v/t1.0-9/156049_10152647422410334_7110295986345889328_n.jpg?oh=9ef55f8ea22e94b63010e9c4d8ed0d33&oe=5615BC50&__gda__=1444406586_031728c8dd07639cb9ec928bb9050e86

اعلی حضرت امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: سات کے عدد کو دفع ضرر وآفت میں ایک تاثیرخاص ہے، (یعنی تکالیف و پریشانی اور آفات و بلیات سے نجات حاصل کرنے کے معاملے میں سات کے عدد میں ایک خاص تاثیر ہے)۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے مرض وصال شریف میں فرمایا: مجھ پر سات مشکوں پر سربستہ کا پانی ڈالو۔

صحیح بخاری شریف میں حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے مروی ہے:

انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لما دخل بیتی واشتد وجعہ قال اھریقواعلیّ من سبع قرب لم تحلل اوکیتھن لعلی اعھد الی الناس۔
ترجمہ : حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام جب میرے گھرتشریف لائے تو آپ کے مرض میں اضافہ ہوگیا۔ فرمایا مجھ پر ایسے سات مشکیزوں کاپانی بہاؤ کہ جن کے بندھن نہ کھولے گئے ہوں (سربستہ مشکیزے ہوں) شاید میں لوگوں سے کوئی عہد لوں۔ (صحیح البخاری۔ کتاب المغازی۔ باب مرض النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ قدیمی کتب خانہ کراچی۔ جلد ۲ صفحہ ٦۳۹)


مواھب شریف میں ہے:

وقدقیل فی الحکمۃ فی ھذا العدد ان لہ خاصیۃ فی دفع ضرر السم والسحر۔
ترجمہ : کہا گیا کہ اس سات کے عدد میں حکمت اور راز یہ ہے کہ اس کو زہر اور جادو کا نقصان زائل کرنے میں خاص تاثیر ہے۔ (المواہب اللدنیہ۔ المقصد العاشر ۔ الفصل الاول۔ المکتب الاسلامی بیروت۔ جلد ٤ صفحہ ۵۲۰)


شرح زرقانی میں فتح الباری سے ہے:

وقد ثبت حدیث من تصبح بسبع تمرات عجوۃ لم یضرہ ذٰلک الیوم سمّ ولاسحر وللنسائی فی قرأۃ الفاتحۃ علی المصاب سبع مرات وسندہ صحیح ولمسلم القول لمن بہ وجع اعوذ بعزۃ اﷲ وقدرتہ من شرما اجدواحاذر سبع مرات وفی النسائی من قال عند مریض لم یحضر اجلہ اسأل اﷲ العظیم رب العرش العظیم ان یشفیک سبع مرات۔

ترجمہ : حدیث پاک سے ثابت ہے کہ جو کوئی صبح سویرے سات عجوہ کھجوریں کھالے تو اسے اس دن زہر اور جادو سے نقصان نہیں پہنچے گا۔ نسائی شریف میں ہے کہ مصیبت زدہ پر سات مرتبہ فاتحہ پڑھی جائے، اس کی سند صحیح ہے۔

مسلم شریف میں ہے کہ جس کو درد کا عارضہ ہو اس پر یہ کلمات سات مرتبہ پڑھے جائیں۔

اَعُوْذُ بِعِزَّۃِ اﷲِ وَقُدْرَتِہ مِنْ شَرِّمَا اَجِدُ وَاُحَاذِرُ

یعنی اﷲ تعالٰی کی عزت اور اس کی قدرت سے پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے جس کو میں پاتا ہوں اور اس سے ڈرتا ہوں (چوکنّا رہتا ہوں)

سنن نسائی شریف میں ہے کہ،

جو کوئی ایسے مریض کے پاس، جس کی موت مقدرنہ ہو، ان الفاظ سے سات دفعہ دعا کرے تو وہ صحت یاب ہو جائے گا، کلمات یہ ہیں:

اسأل اﷲ العظیم ربّ العرش العظیم ان یشفیک

ترجمہ: یعنی میں اﷲ عظمت والے سے سوال کرتا ہوں جو بڑے عرش کا مالک ہے کہ وہ تجھے شفا عطا فرمائے۔ (شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ۔ المقصد العاشر۔ الفصل الاول۔ دارالمعرفۃ بیروت۔ جلد ۸ صفحہ ۲۵۸)



از افادات: العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ، جلد
۲٤، صفحہ ۱۸۳ ۔ ۱۸٤