156049_10152647422410334_7110295986345889328_n.jpg (685176)

حضرت سیدنا ابن عباس (رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ تعالی علیہ وسلم) نے فرمایا ، ''حج کے دس دنوں میں کیا گیا عمل اللہ عزوجل کو بقیہ دنوں میں کئے جانے والے عمل سے زیادہ محبوب ہے۔'' صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا ، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم! کیا راہ ِ خدا میں جہاد کرنا بھی؟'' ارشاد فرمایا ''ہاں! راہِ خدا میں جہاد کرنا بھی ، سوائے اس شخص کے جو اپنی جان و مال کے ساتھ نکلے اور ان دونوں میں سے کچھ بھی واپس نہ لائے۔'' (بخاری ، کتاب العیدین ، باب فضل العمل ، رقم ۹۴۹ ، ج۱ ، ص ۳۳۳)

 

ایک روایت میں ہے ، ''اللہ عزوجل کے نزدیک کوئی نیک عمل قربانی کے دس دنوں میں کئے جانے والے عمل سے زیادہ پاکیزہ اور ثواب والا نہیں۔'' (کنز العمال ، کتاب الفضائل ، باب الاکمال ، رقم ۳۵۱۸۲ ، ج ۱۲ ، ص ۱۴۱)

 

حضرت سیدنا ابن عباس (رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ تعالی علیہ وسلم) نے فرمایا ، ''اللہ عزوجل کے نزدیک حج کے ان دس دنوں سے افضل اور پسندیدہ کوئی دن نہیں لہذا ان دنوں میں سبحان اﷲ ، الحمد ﷲ ، لاالہ الا اﷲ ، اور اﷲ اکبر کی کثرت کیا کرو ۔'' ایک روایت میں ہے کہ ''ان دنوں میں سبحان اﷲ ، الحمد ﷲ ، لاالہ الا اﷲ اور ذکراللہ کی کثرت کیا کرو اور ان میں سے ایک دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے اور ان دنوں میں عمل کو سات سو گنا بڑھا دیا جاتا ہے ۔'' (شعب الایمان ، باب فی الصیام ، فصل تخصیص ایام العشر ، رقم ۷۵۸ ، ج۳ ، ص ۳۵۶)

 

حضرت سیدنا ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ نبی مکرم ، نورِ مجسم ، رسول اکرم (صلی اللہ تعالی علیہ وسلم) نے فرمایا ، ''حج کے دس ایام میں اللہ کی عبادت اس کے نزدیک دیگر ایام کی نسبت زیادہ محبو ب ہے اور ان میں سے ہردن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے اور ان میں سے ہر رات کا قیام شب قدر میں قیام کے برابر ہے۔'' (ترمذی ، کتاب الصوم ، باب ماجاء فی العمل فی ایام العشر ، رقم ۷۵۸ ، ج۲ ، ص ۱۹۲)

 

حضرتِ سیدنا انس بن مالک (رضی اللہ تعالی عنہ) فرماتے ہیں کہ حج کے دس دنوں میں سے ہردن کو ہزار دنوں کے برابر اور عرفہ کے دن کو دس ہزار دنوں کے برابر سمجھا جاتا تھا۔ (شعب الایمان ، باب فی الصیام ، تخصیص یوم عرفۃ بالذکر ، رقم ۳۷۴۴ ، ج۳ ، ص ۳۵۸)

 

امام اوزاعی علیہ الرحمۃ بنی مخزوم کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ تعالی علیہ وسلم) نے فرمایا ، ''ان دس دنوں میں عمل کرنا راہِ خدا عزوجل میں دن میں روزہ رکھنے اور رات میں حفاظت کرتے ہوئے جہاد کرنے کے برابر ہے سوائے اس شخص کے جسے رتبۂ شہادت مل جائے۔'' (الترغیب والترہیب ، کتاب الحج ، باب فی الموقوف بعرفۃ وفضل یوم عرفۃ ، رقم ۸ ، ج۲ ، ص ۱۲۸)

 

علمائے کرام کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ ذوالحجہ کے دس دن افضل ہیں یا رمضان شریف کے آخری دس دن زیادہ افضل ہیں، چنانچہ علماء نے عشرہ ذوالحجہ کو افضل مانااورکچھ اہلِ علم نے رمضان شریف کے آخری عشرہ کوافضل بتایاہے لیکن حضرت شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تحریر فرمایا کہ، ''عشرہ ذوالحجہ کے دن رمضان کے آخری عشرہ کے دنوں سے افضل ہیں کیونکہ انہی دنوں میں یوم عرفہ بھی ہے اور رمضان کے آخری عشرہ کی راتیں ذوالحجہ کے عشرہ سے افضل ہیں کیوں کہ انہی راتوں میں شب قدر ہے۔'' (حاشیہ مشکوۃ ، ص ۱۲۸)