156049_10152647422410334_7110295986345889328_n.jpg (685176)

 امام ابن عساکر وغیرہ نے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت کیا اور امام سبکی نے شفاء اور علامہ سمہودی نے وفا اور امام ابن حجر نے جوہر میں اس کی سند کو جید کہا کہ جب حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شام میں سکونت اختیار فرمائی خواب میں حضور پر نور سید المحبوبین صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے شرفیاب ہوئے کہ ارشاد فرماتے ہیں:

 

ماھذہ الجفوۃ یا بلال اما آن لک ان تزورنی یا بلال!
اے بلال! یہ کیا جفا ہے، اے بلال! کیا ابھی تجھے وہ وقت نہ آیا کہ میری زیارت کو حاضر ہو۔

 

بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ غمگین و ترساں و ہراساں بیدار ہوئے اور فوراً قصدِ مزار پرانوار جانب مدینہ شد الرحال فرمایا، جب شرف حضور پایا قبر انور کے حضور رونا اور منہ اس خاک پر ملنا شروع کیا، دونوں صاحبزادے حضرات حسین و حسن رضی اللہ علٰی جد ہما وعلیہما وبارک وسلم تشریف لائے، بلال رضی اللہ عنہ انھیں گلے لگا کر پیار کرنے لگے، شہزادوں نے فرمایا ہم تمہاری اذان کے مشتاق ہیں یہ سقفِ مسجد انور پر جہاں زمانہ اقدس میں اذان دیتے تھے گئے، جس وقت اللہ اکبر اللہ اکبر کہا تمام مدینہ میں لرزہ پڑگیا، جب اشہد ان لا الٰہ الا اللہ کہا مدینہ کا لرزہ دوبالا ہوا، جب اس لفظ پر پہنچے کہ اشھدان محمد رسول اللہ کنواری نوجوان لڑکیاں پردوں سے نکل آئیں اور لوگوں میں غل پڑگیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مزار پر انوار سے باہر تشریف لے آئے، انتقالِ حضور محبوب ذی الجلال صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی دن مدینہ منورہ کے مرد و زن میں وہ رونا نہ پڑا تھا جو اس دن ہوا۔

 

درنمازم خم ابروئے تو بریاد آمد

حالتے رفت کہ محراب بفریاد آمد

 

یعنی جب آپ کی کمانِ ابرو، مجھے نماز میں یاد آئی،

تو بیخودی کی حالت میں مسجد آہ وبکا میں مصروف ہوگئی

 

(فتاوی رضویہ ، جلد ۱۰ ، صفحہ ۷۲۰ ، بحوالہ شفاء السقام ، صفحہ ۵۳)