خزینہ ایمان - تمام آڈیو

تمام زمرہ جات

سود

بینک ایک ’اجارہ‘ اسکیم کے تحت مجھے ایک کار، جو وہ پہلے اپنے نام پر خریدیں گے، پھر مجھے اُس کے لئے انہیں ماہا نہ قسط جمع کروانی ہو گی جس میں کار کی اصل رقم بھی ہوگی اور کار کا ماہانہ کرایہ بھی اور مدّتِ معینہ کے بعد وہ کار میرے نام کردیں گے۔ وُہ اسے اسلامی طریقہ بتاتے ہیں، براہِ کرم بتائیں کہ کیا یہ جائز ہے یا یہ سود کے زمرے میں آتا ہے؟؟ براہِ کرم تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں تا کہ میں کوئی درست فیصلہ کر سکوں۔
1۔ کیا ایک سال تک کے بچے کا پیشاب پاک ہے ؟؟
2۔ کیا سود ایسی قسم میں جائز ہے کہ دوسرے مسلمان کو نقصان نہ ہو؟؟
1۔کسی غیر مسلم بینک سے قرض لے کر اسے سود ادا کرناکیسا ہے ؟؟
میں ایک لباس اور جوتے کی دکان پر کام کرتا ہوں معمول کے کام کے علاوہ میری ذمہ داری یہ بھی ہے کہ میں کسٹمرز سے کہوں کہ وہ ہماری دکان کا کریڈٹ کارڈ بھی استعمال کریں، جس پر سود لاگو ہوتا ہے۔ کیا یہ ملازمت جائز ہے۔ (جب کہ امریکہ دارالحرب ہے)۔
کیا کسی غیر مسلم کو قرض لے کر سود لیا جا سکتا ہے؟؟
تمام دیکھیں

نکاح طلاق

1۔ زیادہ سے زیادہ کتنی مدت ایک شخص اپنی بیوی سے دور رہ سکتا ہے ؟؟
ایک خاتون نے شادی سے پہلے ایک لڑکی کو جنم دیا اور بعدمیں اُسی شخص سے شادی کر لی، وہ لڑکی اب شادی کی عمر کو پہنچ گئی ہے، لوگ کہتے ہیں کہ اس لڑکی کی شادی کے وقت لوگوں کو یہ بتانا ہو گا کہ یہ لڑکی اس طرح پیدا ہوئی تھی، کیا یہ درست ہے ؟؟ اب کوئی بھی اس لڑکی سے شادی نہیں کر رہا۔
3۔ کیا کسی لڑکے یا لڑکی کی نکاح اس کے سوتیلے باپ کی بیٹی یا بیٹے کے ساتھ جائز ہے ؟؟
میں اپنی خالہ کی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں، جب اس کی عمر ڈیڑھ سال تھی اس نے میری والدہ کا دودہ پیا تھا، اس ایک بار کے علاوہ اس نے دوبارہ کبھی بھی میری والدہ کا دودھ نہیں پیا تھا، میں نے سنا اور پڑھا ہے کہ ایک بار دودھ پینے سے رضایت ثابت نہیں ہوتی، کیا میری خالہ کی لڑکی سے میرا نکاح جائز ہو گا ؟؟
ایک سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ موجودہ زمانے کے یہودی اور عیسائی لڑکی سے شادی جائز ہے جبکہ علامہ قاضی شمس الدین علیہ الرحمۃ نے اپنی کتاب قانونِ شریعت میں موجودہ یہودی اور عیسائی کو “لا مذہب”کہا اور امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃنے بھی “تاریخ الخلفأ”میں حضرت ابو بکرِ صدیق رضی ﷲ عنہ کاقول نقل فرمایا کہ یہودی اور عیسائی سے شادی کرنا منع ہے۔ تو کیا یہ لوگ اہلِ کتاب ہیں ؟؟
ایک نشست میں دی گئی تین طلاقیں تین ہونگی یا ایک ؟؟ حضرت عبدﷲ ابنِ عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت رقانہ رضی ﷲ عنہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی بیوی کو طلاق دینے کا رسول ﷲ ﷺ سے ذکر کیا، حضور ﷺ نے فرمایا”تم نے ایک ہی نشست میں طلاق دی “انہوں نے عرض کیا “ہاں”، حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایک ہی طلاق واقع ہوئی۔ اسی طرح مشہور حنفی اسکالر، ہندوستان کے مولانا عبدالحئی لکھنوی کا بھی ہی مؤقف ہے اور امام ابو داؤد زہری کا بھی یہی مذہب ہے اور امام شوکانی نے حضرت ابو موسٰی اشعری کی روایت کی روشنی میں یہی فتوٰی دیا کہ ایک نشست میں “تین”طلاقیں “ایک”ہی ہونگیں اور مولانا انور شاہ کشمیری کا بھی یہی مؤقف ہے، براہِ کرم تفصیلاً بتائیں۔
تمام دیکھیں
keyboard_arrow_up